پندرہ شعبان کی رات کے متعلق متعدد روایات مروی ہیں، جن میں اس شب کے بعض فضائل کاذکر ہے لیکن یہ روایات تقریبا سب ضعیف ہیں،مثلاً: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو اپنی مخلوق کی طرف(نظرِرحمت سے) دیکھتاہے، پھر مشرک اور کینہ پرور کے سوا باقی ساری مخلوق کو بخشش دیتا ہے۔(ابن حبان:۱۹۸۰)شیخ البانی رحمۃ الله علیہ اور دوسرے محققین کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے، پھر بھی اگر اس حدیث کی رو سے اس رات کی فضیلت ثابت ہوبھی جائے تب بھی، اس رات کوخاص عبادت کرنے کی کوئی ترغیب یافضیلت معلوم نہیں ہوتی ۔ بلکہ اس کیلئے دلیل کی ضرورت ہے جوموجود نہیں۔ اسی طرح ایک روایت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، آپ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہﷺ کو بستر پر موجود نہ پاکر میں باہرنکلی تو اچانک دیکھا کہ آپﷺ بقیع قبرستان میں تھے……تو آپﷺنے فرمایا:’’بیشک اللہ شعبان کی پندرھویں شب کوآسمان دنیا پرآتا ہے، پھر بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کے برابرلوگوں کی مغفرت کرتا ہے ‘‘ ۔ دیگر ائمہ کے علاوہ خود امام ترمذی رحمۃ الله علیہ نے بھی اس روایت کوضعیف قرار دیا ہے، لہذا جولوگ اس ضعیف روایت کی وجہ سے اس رات قبرستان جاتے ہیں وہ گمراہی کے راستے پر ہیں۔
کیاشب برات کوفیصلے کئے جا تے ہیں ؟
شب برات منانے والوں کا
نظریہ ہے کہ یہ فیصلوں کی رات ہے، اور دلیل میں سورہ دخان کی مندرجہ ذیل آیات پیش
کرتےہیں:
ِ
[اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ
فِيْ لَيْلَۃٍ مُّبٰرَكَۃٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ۳ فِيْہَا يُفْرَقُ
كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ۴ۙ ](دخان:۳،۴)
ترجمہ: یقینا ہم نے اس(قرآن)
کو بابرکت رات میں اتارا ہے، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اس رات میں ہر مضبوط کام
کافیصلہ کیاجاتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں بابرکت رات کاتذکرہ ہے جس میں قرآن مجید اتاراگیااور جس میں سال
بھر میں ہونے والے واقعات کافیصلہ کیا جاتا ہے، اس ’’بابرکت رات‘‘سے مراد شعبان کی پندرھویں رات
کو سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسرے مقام پر
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے نزول کے متعلق صراحت فرمائی ہے:
ِ
[شَہْرُ رَمَضَانَ
الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ]
ترجمہ: رمضان کا مہینہ
وہ ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا۔(البقرۃ:۱۸۵)
اور دوسرے مقام پر اس رات کی صراحت بھی فرما دی ہے جس میں اسے نازل کیاگیا،ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ِ
[اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ
فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ۱ۚۖ ](القدر:۱)
ترجمہ:بے شک ہم نے اس (
قرآن) کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔
جو کہ بلا شبہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک طاق رات ہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن
کامہینہ اور اس مہینے کی خاص رات جس میں نبیﷺ پر قرآن کانزول ہوایا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر بیت العزت
میں اتاراگیا ،اس کی بھی وضاحت فرمادی ، الغرض
سورہ دخان کی آیت کے الفاظ" لیلۃ مبارکۃ" کی قرآنی تفسیر سے
پتاچلتا ہے کہ یہ لیلۃ القدر ہی ہے جس میں قرآن اتارا گیا اور اسی میں سال بھر میں پیش آنے والے حادثات وواقعات کافیصلہ بھی کیاجاتا ہے، جمہور
مفسرین کے نزدیک اس کی یہی تفسیرہے، نصِ قرآنی کے مقابلے میں ضعیف اور من گھڑت روایات سےقرآنی الفاظ " لیلۃ مبارکۃ: سے مراد پندرھویں شعبان کی رات کو قرار دینا کسی طرح بھی جائز نہیں بلکہ باطل
ہے، لہذا شعبان کی پندرھویں رات کوفیصلوں کی رات قرار دینا سراسرغلط ہے۔
ِ
اس رات میں کئے جانے والے چند ایک غیرشرعی امور
شعبان کی پندرھویں شب کو اور بھی بعض ایسے کام کیے
جاتے ہیں جن کاکوئی ثبوت نہیں، جیسے حلوے ،مانڈے تقسیم کرنے کاخصوصی اہتمام، عام لوگوں کاخیال ہے کہ اس روز مُردوں کی روحیں
آتی ہیں ،حالانکہ یہ عقیدہ نصِ قرآنی کے بالکل متضادہے کیونکہ اگر دنیا سے جانے والے اللہ کے
نافرمان ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیدی ہیں ،وہ اللہ کی قید سے نکل کر کبھی اور کسی صورت نہیں آ سکتے، اور اگر وہ نیک تھے تو اللہ تعالیٰ
نے ان کے لئے جنت میں طرح طرح کی بہترین
نعمتیں تیار کررکھی ہیں ، وہ جنت کی اعلیٰ اورلذیذ ترین نعمتیں چھوڑ کردنیا میں کس
طرح آسکتے ہیں ؟یعنی کسی لحاظ سے بھی
روحیں دنیا میں نہیں آسکتیں، اسی طرح اس رات
کوچراغاں کااہتمام بھی کیا جاتا ہے اور خوب آتش بازی کی جاتی ہے ، جو کہ مجوسیوں
(آتش پرستوں) کا طریقہ رہا ہے کہ وہ خوشی کے موقع پر آتش بازی
اور چراغاں کرتے ، ان کا یہ طریقہ ہندوؤں نے اختیار کیا اور ان کو دیکھ کر مسلمانوں نے بھی اس کواپنالیا۔
0 Comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔