قال: لما مات بشر بن غياث المريسي لم يشهد جنازته من أهل العلم والسنة أحد إلا عبيد الشونيزي، فلما رجع من جنازة المريسي أقبل عليه أهل السنة والجماعة، قالوا: يا عدو الله تنتحل السنة وتشهد جنازة المريسي؟! قال: أنظروني حتى أخبركم، ما شهدت جنازة رجوت لها من الأجر ما رجوت في شهود جنازته، لما وضع في موضع الجنائز قمت في الصف، فقلت: اللهم عبدك هذا كان لا يؤمن برؤيتك في الآخرة، اللهم فاحجبه عن النظر إلى وجهك يوم ينظر إليك المؤمنون، اللهم عبدك هذا كان لا يؤمن بعذاب القبر، اللهم فعذبه اليوم في قبره عذابا لم تعذبه أحدا من العالمين، اللهم عبدك هذا كان ينكر الميزان، اللهم فخفف ميزانه يوم القيامة، اللهم عبدك هذا كان ينكر الشفاعة، اللهم فلا تشفع فيه أحدا من خلقك يوم القيامة، قال: فسكتوا عنه وضحكوا.
(مشہور گستاخ صحابہ ،رافضی) بشر بن غیاث مریسی کیموت واقع ہوئی تو اس کے جنازے میں عبید الشونیزیؒ کے علاوہ کوئی بھی سنی عالم دن شریک نہ ہوا عبید شونیزیؒ جب جنازے سے فارغ ہوکر آئے تو سنی علماء اسے کہنے لگے:
"اے اللہ کے دشمن تو نے سنی (علماء )کے برخلاف مریسی کے جناے میں کیوں شرکت کی ؟
اس نے کہا:ابھی بتاتا ہوں !
میں اس کے جنازے میں بہت سارے اجر وثواب کی نیت سے شریک ہوا،لہٰذا میں نے اس کے جنازے میں مندرجہ ذیل دعا کی:
"اللہ! تیرا یہ بندہ آخرت میں تیرے دیدار ہونے پر ایمان نہیں رکھتا تھا ،لہٰذا قیامت کے دن جب اہل ایمان تیرے دیدار کی نعمت سے لطف اندوز ہوں تو اسے اپنے دیدار سے محروم فرمانا۔
اللہ! تیرا یہ بندہ عذاب قبر کا منکر تھا لہٰذا قبر میں ایسا عذاب مسلط فرمانا جو کسی کو نہ دیا ہو۔
اللہ! تیرا یہ بندہ میزان کا منکر تھا ،لہٰذا روز قیامت اس کے اعمال کا کوئی وزن باقی نہ رکھنا۔
اللہ! یہ تیرا بندہ روز قیامت شفاعت کا بھی منکر تھا لہٰذا اس کے بارے میں کسی کی بھی شفاعت قبول نہ فرمانا ۔
جب سنی علماء نے یہ دعائیں سنیں تو ہنس دئے اور کوئی بات نہ کی۔
تایخ بغداد،7/70 ط مکتبہ علمیہ بیروت لبنان
(ترجمہ : حافظ حبیب الرحمٰن حنیف)

0 Comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔